گرمی میں ستمبر ہو جانا

تم صبح کا سویرا ہو دل میں

تم من میں شب کا تارا ہو

بس آ پہنچو جس دم تم کو

گھبرا کر دل نے پکارا ہو

بس اتنی سی گزارش ہے تم سے

جب ہم کو نہ وقت گوارہ ہو

ہو تپتی دھوپ  کی آمیزش میں خشکی بھی کچھ کچھ شامل

بس تھوڑی دیر کو بادل بن کر تم نے ہم کو سنوارہ ہو

ہے تم کو اجازت اس کے سوا

جب چاہو ستمگر ہو جانا

بے ابر دسمبر ہو جانا

تاریک نومبر ہو جانا

بس دل کے موتی، من کا سویرا

گرمی میں ستمبر ہو جانا

p

Advertisements

2 thoughts on “گرمی میں ستمبر ہو جانا

Kia khayal hay?

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s